بدھ 28 جنوری 2026 - 14:55
رہبر؛ استعمار کے مقابل انسانیت کی حجت

حوزہ/تاریخ کبھی یکساں نہیں رہتی، وہ کبھی سوال بن کر ذہنوں کو بے چین کرتی ہے اور کبھی فیصلہ بن کر ضمیروں پر دستک دیتی ہے؛ ہر دور اپنے ساتھ کچھ ایسے سوال لے کر آتا ہے جن سے فرار ممکن نہیں ہوتا، چاہے سچ کو نظرانداز کیا جائے یا خاموشی کو حکمت کا نام دے دیا جائے۔ کیا ظلم کے سامنے خاموش رہنا انسانیت ہے، یا کمزوری کو شرافت کا نام دے دیا گیا ہے؟

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ کبھی یکساں نہیں رہتی۔ وہ کبھی سوال بن کر ذہنوں کو بے چین کرتی ہے اور کبھی فیصلہ بن کر ضمیروں پر دستک دیتی ہے۔ ہر دور اپنے ساتھ کچھ ایسے سوال لے کر آتا ہے جن سے فرار ممکن نہیں ہوتا، چاہے سچ کو نظرانداز کیا جائے یا خاموشی کو حکمت کا نام دے دیا جائے۔

کیا ظلم کے سامنے خاموش رہنا انسانیت ہے، یا کمزوری کو شرافت کا نام دے دیا گیا ہے؟

کیا طاقت ہی حق کا معیار بن چکی ہے، یا حق کو بھی طاقتوروں کی جاگیر میں بدل دیا گیا ہے؟

اور کیا دین محض عبادت گاہوں تک محدود ہو چکا ہے، یا وہ مظلوم کی آہ کو بھی سنتا ہے؟

آج کا عالمی منظرنامہ انہی سوالات کے گرد گھوم رہا ہے۔ استعمار نے اپنی شکل بدل لی ہے، مگر اس کی روح وہی ہے: غلبہ، لوٹ اور خوف۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب تلوار کے ساتھ میڈیا ہے، فوج کے ساتھ معیشت ہے اور قبضے کے ساتھ ایک خوب صورت مگر زہریلا الفاظ کافریب بھی۔ ایسے میں سب سے بڑا امتحان اہلِ ایمان کا ہے—کہ وہ حق کو طاقت کے پیمانے سے ناپتے ہیں یا حق کے لیے طاقت کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

آج جب بڑی طاقتیں مظلوم قوموں کی لاشوں کو “حادثاتی نقصان” کہہ کر ضمیر کی عدالت سے بچ نکلنا چاہتی ہیں، اور جب انصاف چند طاقتور ملکوں کے ویٹو میں جکڑ دیا گیا ہے، تو ایک سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے:

کون ہے جو اس جبر کے آگے دیوار بن کر کھڑا ہو؟

کون ہے جو طاقت کے نشے میں مست اس دنیا کے سامنے کھڑا ہو کر اعلان کرے کہ انسانیت پر ظلم و بربریت کرنا شیطانت اور درندگی ہے ۔

قرآن اس کشمکش کو کبھی مبہم نہیں چھوڑتا۔ وہ صاف اعلان کرتا ہے: “وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ” (النساء: 75)

اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور اُن کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر قتال نہیں کرتے جو فریاد کر رہے ہیں؟

یہ آیت محض جنگ کا حکم نہیں، بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی صدا ہے—کہ دین، ظلم کے سامنے غیر جانبداری کو قبول نہیں کرتا۔ جہاں مظلوم ہو، وہاں خاموشی بھی ظلم کا ساتھ بن جاتی ہے۔

اہلِ بیتِ اطہارؑ کی سیرت اسی قرآنی موقف کی زندہ تفسیر ہے۔ امام حسینؑ نے کربلا میں یہ اصول ہمیشہ کے لیے طے کر دیا کہ باطل کے نظام کے ساتھ مفاہمت، چاہے کتنی ہی معقول کیوں نہ لگے، دراصل حق کی نفی ہے۔ پھر امام زین العابدینؑ نے سکھایا کہ اگر تلوار چھن جائے تو شعور کو ہتھیار بنا لیا جائے۔ یوں حق کی جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوتی—وہ صرف اپنی صورت بدلتی ہے۔

آج جب بڑی طاقتیں مظلوم قوموں کی ہلاکتوں کو “حادثاتی نقصان” کہہ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرنا چاہتی ہیں، اور جب انصاف چند طاقتور ملکوں کے ویٹو کی وجہ سے قید ہو کر رہ گیا ہے، تو ایک سوال پوری شدت سے سامنے آتا ہے کہ

کون ہے جو اس جبر کے مقابل کھڑا ہو؟

کون ہے جو طاقت کے نشے میں ڈوبی دنیا کو یاد دلائے کہ اخلاق بھی کوئی شے ہے؟

یہی وہ پس منظر ہے جس میں آج کی مزاحمتی قیادت کو سمجھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ تحریر کسی شخصیت پرستی کا اظہار نہیں، بلکہ ایک فکری رویّے کا مطالعہ ہے—اس رویّے کا جو استعمار کے سامنے جھکنے کو حرام، اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کو ایمان سمجھتا ہے۔ یہی وہ آواز ہے جو سیاسی جغرافیے سے نکل کر اخلاقی تاریخ میں اپنا نقش ثبت کرتی ہے۔

یہ آواز کسی وقتی ردِعمل یا جذباتی ابال کا نتیجہ نہیں، بلکہ اُس مکتب کی پیداوار ہے جس کی بنیاد علیؑ نے عدل پر رکھی، جسے فاطمہؑ نے احتجاج دیا، جسے حسینؑ نے خون بخشا، اور جسے زینبؑ نے شعور عطا کیا۔ اسی فکری تسلسل میں ان صاحبان عصمت ہادیان کا سچا غلام آج آیة اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ‌ای کی قیادت کو سمجھنا دراصل اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے کہ—

کیا آج بھی حق، طاقت کے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے؟

زمانہ اس نکتے پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں خاموشی بھی جرم بن چکی ہے اور مصلحت بھی۔ ضمیر یا تو بازار میں نیلام ہو چکا ہے، یا خوف کے اندھیروں میں قید کر دیا گیا ہے۔ایسے میں حق کی بات محض رائے نہیں رہتی، بلکہ ایک اخلاقی جہاد بن جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب باطل اپنی انتہا کو پہنچتا ہے، تو خدا کسی نہ کسی دل میں وہ جرأت رکھ دیتا ہے جو طوفان کے سامنے چراغ بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔

قرآن اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے: “حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ” (آل عمران: 173)

یہ وہ مقام ہے جہاں ایمان عقیدہ نہیں رہتا، بلکہ سیاسی، سماجی اور اخلاقی موقف بن جاتا ہے۔

اہلِ بیتؑ کے مکتب میں ظلم کے سامنے ڈٹ جانا محض شجاعت نہیں، بلکہ بندگی کی علامت ہے۔ امیرالمؤمنین علیؑ کا فرمان— “كُونُوا لِلظَّالِمِ خَصْمًا وَلِلْمَظْلُومِ عَوْنًا”

ایک نعرہ نہیں، بلکہ تاریخ کا مستقل دستور ہے۔ یہی اصول آج پھر زندہ نظر آتا ہے۔

جب فلسطین، یمن،لبنان،اور شام لہو میں ڈوبے ہوں، اور دنیا کی بڑی زبانیں خاموش یا شریکِ جرم ہوں، تو جو آواز استعمار کو للکارے، وہ محض سیاسی نہیں رہتی—وہ اخلاقی حجت بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:“سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ”

قیادت تخت سے نہیں، خدمت سے جنم لیتی ہے۔ اسی لیے جو رہبر سادہ ہو، بے نیاز ہو، اور قوموں کے درد کو اپنا درد بنا لے، وہ دلوں پر حکومت کرتا ہے۔

اسی استقامت کے بارے میں قرآن کسی مصلحت کے بغیر، کسی خوف کے بغیر، فیصلہ صادر کرتا ہے:“إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ” (محمد: 7)

یہ کوئی روحانی نعرہ نہیں، یہ تاریخ کا قانون ہے۔ جو اللہ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے—یعنی عدل، حق اور مظلوم کے ساتھ—اللہ اسے اکیلا نہیں چھوڑتا، بلکہ اس کے قدم اس طرح جما دیتا ہے کہ سلطنتیں لرزنے لگتی ہیں۔ یہی وہ ثبات ہے جو آج مظلوموں کے لیے امید کی آخری سانس اور ظالموں کے لیے مستقل ڈر بن چکا ہے؛ ایسا ڈر جو بموں سے نہیں، حق کے یقین سے پیدا ہوتا ہے۔

یہ مزاحمت کسی مغربی فلسفے کی دین نہیں، کسی سیاسی لیبارٹری میں تیار ہونے والا منصوبہ نہیں، اور کسی وقتی مفاد کا کھیل نہیں۔ یہ علیؑ کے در کی غلامی کا وہ تسلسل ہے جہاں سر صرف رب کے سامنے جھکتا ہے اور باطل کے سامنے ڈٹ جانا عبادت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قیادت نہ معصوم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، نہ آسمانی ہونے کا—مگر زمین پر حق کی ایسی حجت بن جاتی ہے جسے گولی، پابندی اور پروپیگنڈا بھی خاموش نہیں کروا سکتا۔

آج دنیا کسی ابہام میں نہیں، بلکہ صاف صاف دو صفوں میں کھڑی ہے۔ ایک طرف طاقت کے پجاری ہیں—سرمایہ، اسلحہ، میڈیا اور جھوٹے قانون کے محافظ۔ دوسری طرف وہ انسان ہیں جن کے حصے میں صرف خون، آنسو، بھوک اور اجتماعی قبریں آئی ہیں۔ ایک طرف ایوانوں کی روشنی ہے، دوسری طرف خیموں کا اندھیرا۔ اور اس منظر میں غیر جانبداری کا دعویٰ دراصل ظلم کی خدمت ہے۔

ایسے وقت میں مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا کوئی جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ ایمان کا تقاضا اور انسان ہونے کی آخری شرط ہے۔ یہاں خاموشی حکمت نہیں، بغاوت سے فرار ہے؛ اور مصلحت عقل نہیں، ضمیر کی شکست۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں یا تو انسان حق کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے—یا تاریخ کے کٹہرے میں مجرم بن کر کھڑا کر دیا جاتا ہے

خدایا! ہمیں وہ نگاہ عطا فرما جو حق کو پہچاننے میں کبھی دھوکا نہ کھائے، اور وہ حوصلہ دے جو حق کے ساتھ کھڑے ہونے میں کبھی کمزور نہ پڑے۔ ہمیں اُن لوگوں میں شامل فرما جن کے لیے خاموشی مصلحت نہیں بلکہ بزدلی سمجھی جاتی ہے، اور جن کے نزدیک سچ کہنا راحت نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ اے ربِّ علیؑ و حسینؑ! ہمارے دلوں میں ایسے چراغ روشن کر دے جو ظلم کے اندھیروں کو چیر دیں—چاہے ان کی روشنی خود ہمیں جلا کر ہی کیوں نہ راستہ دکھائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha